ایڈیٹروں کے لیے ضابطہ اخلاق – پی ٹی وی اسپورٹس
پی ٹی وی اسپورٹس سے وابستہ تمام اراکین اس ضابطہ اخلاق کے پابند رہیں گے۔ یہ اصول صحافتی دیانت، درست معلومات کی فراہمی، عوامی اعتماد اور افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔ ادارے سے وابستہ تمام ایڈیٹرز، رپورٹرز، اینکرز، ویب ایڈمنز، ویڈیو پروڈیوسرز اور دیگر عملہ ان اصولوں پر سختی سے عمل کرے گا۔
درستگی
پریس کے لیے ضروری ہے کہ وہ غلط، گمراہ کن اور مسخ شدہ معلومات یا تصاویر شائع نہ کرے۔ اگر کسی خبر میں غیرمعمولی غلطی یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا معاملہ سامنے آئے تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر معذرت بھی شائع کی جائے گی۔ ادارہ حقائق، آراء اور تجزیے میں واضح فرق برقرار رکھے گا۔
جواب کے مواقع فراہم کرنا
اشاعتی غلطیوں کی صورت میں متاثرہ فرد یا ادارے کو جواب اور وضاحت کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔
پرائیویسی
صحافی ہر شخص کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو زندگی، صحت اور ذاتی رابطوں کا احترام کرے گا۔ کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی نجی معلومات یا تصاویر شائع نہیں کی جائیں گی، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں پرائیویسی کی توقع موجود ہو۔
ہراساں کرنا
کسی بھی فرد کو ہراساں کرنا، دباؤ ڈالنا یا خوفزدہ کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر کوئی شخص گفتگو، سوالات یا تصویر لینے سے منع کرے تو صحافی فوراً رک جائے گا اور اس کی خواہش کا احترام کرے گا۔
غمزدہ اور حساس ماحول میں رپورٹنگ
حادثات، اموات یا ذاتی صدمے کے مواقع پر صحافی کا رویہ ہمدردانہ اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔ رپورٹنگ کرتے وقت معاملے کی حساسیت کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔
بچے
16 سال سے کم عمر بچوں کے انٹرویوز، تصاویر یا ویڈیوز والدین یا سرپرست کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کیے جائیں گے۔ اسکولوں یا تعلیمی اداروں میں رپورٹنگ کے لیے متعلقہ انتظامیہ کی اجازت ضروری ہوگی۔
بچے اور حساس مقدمات
جنسی حملوں یا حساس مقدمات میں ملوث بچوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی، چاہے وہ متاثرہ ہوں یا گواہ۔
اسپتال اور طبی مراکز
اسپتالوں اور طبی مراکز میں معلومات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ مریضوں کی پرائیویسی کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
جرائم کی رپورٹنگ
کسی جرم میں ملوث ملزم یا مجرم کے اہلِ خانہ، دوستوں یا رشتہ داروں کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک ان کا براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو۔
خفیہ آلات اور دھوکے سے معلومات حاصل کرنا
خفیہ کیمرے، ریکارڈنگ آلات، نجی پیغامات یا دستاویزات بغیر اجازت حاصل کرنا یا شائع کرنا ممنوع ہوگا، سوائے ان معاملات کے جہاں واضح عوامی مفاد موجود ہو۔
جنسی حملوں کے شکار افراد
جنسی حملوں کے متاثرین کی شناخت یا ایسی معلومات شائع نہیں کی جائیں گی جن سے ان کی شناخت ظاہر ہونے کا امکان ہو۔
تفریق اور امتیاز
پی ٹی وی اسپورٹس کسی بھی فرد کے خلاف مذہب، نسل، زبان، جنس، قومیت یا جسمانی و ذہنی حالت کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا تعصب کی حمایت نہیں کرے گا۔
معاشی صحافت
صحافتی معلومات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ خفیہ کاروباری معلومات یا مالی رازوں کو ذاتی یا خاندانی فائدے کے لیے استعمال کرنا سختی سے ممنوع ہوگا۔
خفیہ ذرائع
صحافیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے خفیہ ذرائع کا تحفظ کریں۔
گواہوں کو رقم کی فراہمی
عدالتی کارروائی کے دوران کسی ممکنہ گواہ کو معلومات یا بیان کے بدلے رقم نہیں دی جائے گی، سوائے ان معاملات کے جہاں واضح عوامی مفاد موجود ہو اور ادارتی منظوری حاصل ہو۔
مجرموں کو رقم کی ادائیگی
جرائم سے متعلق معلومات، تصاویر یا انٹرویوز کے لیے مجرموں یا ان کے ساتھیوں کو رقم فراہم نہیں کی جائے گی، جب تک عوامی مفاد واضح نہ ہو۔
عوامی مفاد
عوامی مفاد میں درج ذیل امور شامل ہوسکتے ہیں:
- جرم یا بدعنوانی کو بے نقاب کرنا
- عوامی صحت اور سلامتی کا تحفظ
- عوام کو گمراہ ہونے سے بچانا
- غیرقانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کرنا
- کھیلوں اور قومی معاملات سے متعلق اہم معلومات عوام تک پہنچانا
پی ٹی وی اسپورٹس اس ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے تاکہ ذمہ دار، غیرجانبدار اور معیاری صحافت کو فروغ دیا جاسکے۔
عوامی مفاد مندرجہ ذیل عوامی مفادات ہوسکتے ہیں لیکن یہ صرف اسی تک محدود نہیں:
- جرم کی شناخت اور بے نقاب کرنا یا سنجیدہ اور گھمبیر صورتحال سے پردہ اُٹھانا
- عوامی صحت اور سلامتی کا تحفظ
- کسی فرد یا ادارے کے بیان اور عمل سے عوام کو گمراہ ہونے سے بچانا
- اظہارِ رائے کی آزادی خود ہی عوامی مفاد کا ایک حصہ ہے ۔
- جب بھی عوامی مفاد پیشِ نظر ہو پریس کو ایسے ایڈیٹرز درکار ہوتے ہیں جو اس بات کا خیال رکھیں کہ جو کچھ وہ بیان کررہے ہیں یا شائع کرنے جارہے ہیں یا اسے شائع کرنے پر غور کررہے ہیں وہ کس طرح اور کیسے عوامی مفاد میں ہوگا ۔
- ایکسپریس نیوز عوامی دسترس میں موجود معلوماتی مواد کی مزید توسیع کے لیے کوشش کرتا رہے گا اور اسے مزید عوامی رسائی تک لائےگا۔
- ایڈیٹرز 16 برس سے کم عمر کے بچوں کے مفادات کو عوامی مفادات پر مقدم رکھیں گے۔